معروف شاعر و ادیب شاہد علی قمر کا شہر اقبال سے تعلق رکھنے والے شاعر و کالم نگار تجمل ساغر بٹ پر لکھا گیا خصوصی آرٹیکل

بابا جی اشفاق احمد مرحوم و بانو قدسیہ آپا مرحومہ کے منظور نظر ،معروف شاعر ،ادیب و افسانہ نگار شاہد علی قمر کا سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے کالم نگار و شاعر تجمل ساغر بٹ پر لکھا گیا خصوصی آرٹیکل

 

،،،،،،،،،،،،،تجمل ساغر ،،،،،،،،،،،،،
گذشتہ شب تجمل ساغر بھائی کی دعوت پر افتخار افی بھائی کے ہمراہ انکے شہر سیالکوٹ جانے کا اتفاق ہوا ۔ سیالکوٹ شہر سے اپنی آشنائی کا محور مرشدی اقبال رح جیسی برگزید ہستی ہیں۔ اور تجمل بھائی سے اپنی دوستی کا اصل کارن بابا جی اشفاق احمد سے محبت ہے۔ یہ فقیرانہ دوستی چراغ فقر کے سلسلہ اشفاقیہ قدوسیہ سے منسوب ہے ۔ میرا ماننا ہے فقر کے چراغ سے نکلنے والی روشنی کا تعلق دل سے ہوتاہے۔ جو روح میں اتر کر انسان کو نفس کے تکبر سے آزاد کر دیتی ہے۔
اور یہ روشنی موت و حیات کی کشمکش سے آزاد اور علاقے شہر زات پات اونچ نیچ سے بھی بے نیاز ہوتی ہے اس روشنی تلے جو بھی آتا ہے اس کا قلب محبت سے نہال ہو جاتا ہے ۔ پھر ایسے ایسے فقیر منش صوفی لوگ زندگی میں خود ہی چلے آتے ہیں جو آپکی سوچوں کو اک نیا زاویہ دکھلا دیتے ہیں کہ جس سے دنیا خوبصورت لگنے لگتی ہے اور جب ان فقیر منش صوفی لوگوں کی محفل فقر سجتی ہے تو چراغ سے چراغ جلنے لگتے ہیں ۔ سیالکوٹ کی سرزمین میں فقر کا اک چراغ تجمل ساغر بھائی کی صورت میں خوب روشنی بکھیر رہا ہے۔ تجمل ساغر بھائی درد دل رکھنے والی ایک خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں جن کے دل کو خدا نے انسانیت سے محبت کے جذبے سے لبریز کر رکھا ہے۔ اور یہی محبت کا خوبصورت جذبہ جب شاعری کی شکل میں لفظوں کی چادر اوڑھتا ہے تو سننے والے کی سماعتوں پر کوئل کی صدا دیتا یے۔
تجمل بھائی اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ جب پہلی بار ا اپنے بچھڑے باپ کی مرقد پر حاضری دے کر واپس آتے ہیں تو اس منظر کو ایک آزاد نظم میں یوں بیان کرتے ہیں۔

تجھے خبر ہے مزاج ہستی
تیرے سبب سے ہیں زار روتی
روز و شب بیشمار آنکھیں
تیری نگاہوں کو یاد ہو گا
وہ میرے بابا کا زرد چہرہ
بے روح پیکر
وہ اک دسمبر کا سرد موسم
تیری بسائی وہ ایک بستی
وہ جس کے اک بے چراغ گھر میں
ہیں میرے بابا نے ڈیرے ڈالے
کہ جس کے پہلو میں ، میں کھڑا تھا
وہ ایک مرقد میرا اثاثہ
وہ میری بانہوں میں زار روتی
وہ خاک ہوتی حزیں سی عورت
وہ میری ماں تھی
اس ایک مرقد پہ آکے جیسے
بدل گئے تھے تمام رشتے

 

پگھل گئے تھے ہمارے پیکر

میں اس گھڑی میں تھا باپ جیسے

وہ میری بیٹی میں ڈھل گئی تھی
میں اپنی ماں کو فراخ سینے سے یوں لگائے کھڑا تھا جیسے
ملول بیٹی کو بھینچ لیتا ہے اپنے سینے سے باپ جیسے
دکھوں کا جیسے رواں تھا دریا سسک رہا تھا تمام منظرجہاں  بھی جیسے کہ دم بخودتھا ی
میرے سہارے کے باوصف بھی
یوں کاپنتا تھا وجود مادر
خزاں رسیدہ جوں برگ کوئی

میں اپنی ماں کے اداس چہرے
لرزتے پیکر
برستی آنکھوں کو دیکھتا تھا
میں سوچتا تھا کہاں چھپائوں میں اپنی ماں کو
کہ اب دکھوں کا کوئی بھی موسم
اسے  تلاشے تو ہار جائے
غموں سے بھیگا اداس لمحہ
اسے نہ دیکھے اسے نہ پائے
مگر حقائق کا تلخ لہجہ
بڑے تواتر سے پوچھتا تھا
کبھی رفیقوں کی مرقدوں سے
کوئی سلامت بھی لوٹ پایا؟

یہ شب محبتوں اور قہقہوں سے بھر پور شب تھی کہ جس میں تجمل ساغر کے ساتھ افتخار افی بھائی ارسلان بھائی اور شاہان بھائی نے مل کر خوب صوفیانہ باتیں کیں ۔ افی بھائی اور تجمل بھائی چراغ محفل تھے جن سے خاکسار خاموشی سے علم کی روشنی سمیٹتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔
شاھد علی قمر

Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*